عشق جب حد سے گُزر کر رُوح میں تحلیل ہوتا ہے
جُنوں کے سوز میں ڈھل کر اذیت رقص کرتی ہے
~~~
جس کے حصّے میں یار تُو آیا
یہ ارض و سما اُسّی کے ہیں
یہ ارض و سما اُسّی کے ہیں
~~~
تو دائــمی بـــہار ہے، میں عارضی مــہک
میری بقا اسی میں ہے تجھ میں فنا رہوں
میری بقا اسی میں ہے تجھ میں فنا رہوں
~~~
تجھے کھو کے ،گر جیت بھی جاؤں
تو کیا خاک خوشیاں مناؤں
تو کیا خاک خوشیاں مناؤں
~~~
پھر ڈھونڈتا ہوں
آپ کی پہلی نظر کو میں
آپ کی پہلی نظر کو میں
~~~
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
بکھرنے کی۔۔۔ بچھڑنے کی
بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔
بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔
میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔
تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔
کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔
مجھے آواز دے دینا۔۔
تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔
سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں
~~~
وہ جگہ چھوڑ دو....
جہاں تمہارے احساس اور تمہارے الفاظ کی قدر نہ ہو.
چاہے وہ کسی کا گھر ہو یا کسی کا دل
~~~
No comments:
Post a Comment